فلسطین کے حق میں بیان: پرنس ہیری اور میگھن مارکل کے خیراتی ادارہ نے امریکی مسلم تنظیم سے تعلقات ختم کرلیے

08:1017/04/2025, جمعرات
جنرل17/04/2025, جمعرات
ویب ڈیسک
فاؤنڈیشن نے پچھلے ہفتے آخر میں اس تنظیم کو مزید فنڈنگ دینا بند کرنے کا اعلان کیا تھا
تصویر : فیس بک / فائل
فاؤنڈیشن نے پچھلے ہفتے آخر میں اس تنظیم کو مزید فنڈنگ دینا بند کرنے کا اعلان کیا تھا

برطانوی شاہی خاندان کے پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے خیراتی ادارہ آرک ویل فاؤنڈیشن نے فلسطین کے حق میں بیانات دینے پر امریکی مسلم تنظیم، میلواکی مسلم ویمنز کوالیشن سے تعلقات ختم لیے ہیں۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں قائم کیا گیا ادارہ آرک ویل فاؤنڈیشن نے 2023 سے اب تک میلواکی مسلم ویمنز کوالیشن کو دو الگ الگ گرانٹس دی تھیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً تقریباً 55,700 ڈالرز تھی۔

اس تنظیم کی بانی نے فلسطین کے حق میں بیانات دیے تھے، جس کے بعد فاؤنڈیشن نے اس تنظیم کو دی گئی فنڈنگ کو روک لیا۔

امریکی نشریاتی ادارے نیوز نیشن نے حال ہی میں آرک ویل فاؤنڈیشن کو میلواکی مسلم ویمنز کوالیشن کی فلسطینی-امریکی بانی جانان ناجیب کے فلسطین کے حق میں بیانات دینے کے بارے میں رپورٹ کیا۔

فاؤنڈیشن نے پچھلے ہفتے آخر میں اس تنظیم کو مزید فنڈنگ دینا بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جب اسے فلسطین سے متعلق بیانات دینے کے بارے میں خبردار کیا گیا۔


تنظیم نے کیا کہا تھا؟

نیوز نیشن نے اس ماہ کے شروع میں آرک ویل فاؤنڈیشن کو بتایا کہ جانان ناجیب نے اسرائیل کو ’اپارتھائیڈ ریاست‘ قرار دیا تھا، جو کہ 2024 میں کئی بڑے انسانی حقوق کے گروپوں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، کی جانب سے استعمال کیا گیا۔

نیوز نیشن نے مزید کہا کہ جانان ناجیب نے اسرائیل پر اسلحہ کی پابندی اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وہ نعرہ بھی دہرایا ’دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا‘۔


’فاؤنڈیشن کے اقدار کے خلاف‘

جانان ناجیب نے گزشتہ سال ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’اسرائیل کی فلسطین پر 75 سالہ قبضہ اور غزہ میں نسل کشی ایک سنگین ناانصافی ہے۔ دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا۔ سمندر سے دریا تک، فلسطین ہمیشہ زندہ رہے گا‘۔

آرک ویل فاؤنڈیشن نے جانان ناجیب کو ایک خط میں کہا کہ ’جانان، ہمیں حال ہی میں آپ کی ایک بلاگ پوسٹ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے جو فاؤنڈیشن کے اقدار کے خلاف ہے۔‘

’ایک فاؤنڈیشن کے طور پر ہم مختلف نقطہ نظر اور پس منظر کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہم نفرت انگیز الفاظ، اقدامات یا پروپیگنڈہ برداشت نہیں کریں گے۔‘

پرنس ہیری نے پہلے کہا تھا کہ وہ سوشل جسٹس کے لیے پرعزم ہیں اور نسل پرستی کو ختم کرنے کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے اور میگھن مارکل نے شاہی خاندان پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

یہ تنازعہ اس وجہ سے بڑھا جب پرنس ہیری کو برطانوی میڈیا نے تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ جنگ سے متاثر یوکرین گئے، مگر ساتھ ہی انہوں نے ہائی کورٹ میں یہ کہا کہ انہیں برطانیہ میں ٹیکس دہندگان کی رقم سے سیکیورٹی دی جانی چاہیے۔

شاہی خاندان کے کسی رکن نے 2018 سے پہلے اسرائیل کا سرکاری دورہ نہیں کیا تھا، جب پرنس ولیم، پرنس ہیری کے بڑے بھائی، اسرائیل کے آزادی کے 70 سال مکمل ہونے پر وہاں گئے تھے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ملکہ الزبتھ کا اسرائیل کے بارے میں منفی رویہ تھا کیونکہ 1940 کی دہائی میں فلسطین میں برطانوی حکمرانی کے خلاف صہیونی گروپوں نے جو پرتشدد بغاوت کی تھی، اس نے برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو پیچیدہ بنایا تھا، اس وقت تک اسرائیل کا آزاد ریاست کے طور پر قیام نہیں ہوا تھا۔

مرحومہ ملکہ الزبتھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلیوں کو ’یا تو دہشت گرد یا دہشت گرد کے بیٹے‘ سمجھتی تھیں اور انہوں نے اسرائیلی حکام کو بَکنگھم پیلس میں آنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

1984 میں اردن کے دورے کے دوران کہا جاتا ہے کہ انہیں مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستوں کے مقامات دکھائے گئے تھے، جس پر انہوں نے اسے افسوسناک قرار دیا۔





#مشرق وسطیٰ
#شہزادہ ہیری
#برطانوی شاہی خاندان
#اسرائیل حماس جنگ