
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مسلح افراد نے ایک گاڑی پر حملہ کر کے دو پولیو ورکرز کو اغوا کر لیا۔
عرب نیوز کے مطابق پولیو ورکرز صحت کے مرکز کا دورہ کرنے کے بعد اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔
یہ اغوا ایک قومی پولیو مہم کے آغاز سے پہلے ہوا، جو کہ 21 اپریل سے شروع ہو گی اور اس کا مقصد 45 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’رضا محمد اور محمد آصف کو نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔‘
پولیس کا کہنا تھا کہ یہ دونوں افراد آنے والی پولیو مہم کی تربیت کے بعد واپس آ رہے تھے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں اغوا کس نے کیا، لیکن حکام پہلے بھی ایسے حملوں کا الزام شدت پسندوں پر لگا چکے ہیں۔
مزید یہ کہ دہشت گرد گروہ پولیو مہم کو ایک مغربی سازش کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد بچوں کو بانجھ بنانا ہے، حالانکہ حکومت اور ماہرین صحت اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
پاکستان میں جنوری کے بعد سے پولیو کے چھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور ہمسایہ ملک افغانستان وہ واحد ممالک ہیں جہاں پولیو ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔






