
صرف 13 سال کی عمر میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے مشرقی یروشلم سے گرفتار کیے جانے والے فلسطینی لڑکے کو 9 سال سے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اس دوران جیل میں رہنے کی وجہ سے اُن کی ذہنی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق احمد مناصرہ، جن کی عمر اب 22 سال ہے، جمعرات کے روز ساڑھے نو سال سزا مکمل کرنے کے بعد رہا ہوگئے ہیں۔
احمد مناصرہ کو اُس وقت سزا سنائی گئی جب وہ اپنے کزن حسن مناضرہ کے ہمراہ موجود تھے۔ دونوں پر الزام تھا کہ 12 اکتوبر 2015 کو میں مشرقی یروشلم میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستی ’پیسگاٹ زیو‘ کے قریب دو اسرائیلیوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔
حسن، جو اُس وقت 15 برس کے تھے، ایک اسرائیلی شخص کی گولی سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ احمد کو ایک اسرائیلی ہجوم نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک اسرائیلی ڈرائیور نے اسے گاڑی تلے کچل دیا۔ احمد کے سر کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اُسے اندرونی چوٹیں بھی آئیں۔
واقعے کے بعد ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو منظرِ عام پر آئی، جس میں احمد کو سڑک پر خون میں لت پت لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اردگرد موجود اسرائیلی اُس پر آوازیں کس رہے تھے۔ اس ویڈیو کو اُس وقت لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
احمد پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا اور اسرائیلی عدالتوں نے بغیر شواہد اسے مجرم قرار دے دیا۔
2016 میں ایک اسرائیلی عدالت نے احمد کو دہشت گردی کے قانون کے تحت اقدامِ قتل کا مجرم قرار دے کر 12 سال قید کی سزا سنائی، جو بعد میں کم ہو کر ساڑھے 9 سال ہو گئی۔
انہیں کئی سال اسرائیلی جیووینائل جیل میں گزارے، پھر انہیں بالغوں کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں ان کے ساتھ تشدد بھی کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ذہنی صحت بگڑتی گئی۔ انہیں شیزوفرینیا، شدید ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات کی تشخیص ہوئی۔
2022 میں ان کے اہلِ خانہ اور وکلا نے بتایا کہ احمد کو روزانہ 23 گھنٹے ایک تنگ سی کوٹھڑی میں بند رکھا جاتا تھا، جہاں وہ شدید وہم اور خیالی خدشات کا شکار ہو گیا، جس کے باعث احمد کو نیند تک نہیں آتی تھی۔ اُس کے وکیل نے بتایا کہ احمد نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔
جیل میں جب پہلی بار ڈاکٹر نے احمد کا علاج کیا تو معائنے کے بعد ایک میڈیکل رپورٹ جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ احمد شیزوفرینیا (ذہنی بیماری) اور ڈپریشن کا شکار ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر احمد کی قید جاری رہی تو اس کی ذہنی صحت کو مستقل اور ناقابلِ واپسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
احمد کی رہائی مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی مسلسل درخواستوں کے بعد عمل میں آئی، جن میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ شامل ہیں، جنہوں نے بار بار ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی سپریم کورٹ میں احمد کی قبل از وقت رہائی کے لیے کی جانے والی اپیلیں بار بار مسترد کر دی گئیں۔ اسرائیلی عدالتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ احمد ’دہشت گردی‘ کے الزام میں سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے رہائی کے لیے اہل نہیں ہے۔
احمد کی سزا سنائے جانے کے دوران اسرائیلی قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت 12 سال یا اس سے کم عمر کے بچوں کو ’دہشت گردانہ جرائم‘ کے الزامات میں مجرم قرار دینے کی اجازت دی گئی۔






