
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تقریباً ایک ہزار موجودہ اور ریٹائرڈ اسرائیلی ایئر فورس کے اہلکاروں کی جانب سے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مطالبے پر مبنی خط پر دستخط کرنے والوں کو ’انتہاپسند اور غیر اہم‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی انہیں برطرف کرنے کی دھمکی دی ہے۔
جمعرات کو ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وزیرِ اعظم اُس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں جو وزیرِ دفاع اور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے اُن اہلکاروں کو برطرف کرنے کے لیے کیا ہے جنہوں نے خط پر دستخط کیے تھے۔
خط میں کہا گیا تھا کہ جنگ صرف فلسطینیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان اسرائیلیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے جو غزہ میں قید ہیں، اس لیے جنگ بند ہونی چاہیے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ’جیسا کہ ماضی میں ثابت ہو چکا ہے، صرف ایک (جنگ بندی کا) معاہدہ ہی یرغمالیوں کو بحفاظت واپس لا سکتا ہے، جبکہ فوجی دباؤ اکثر یرغمالیوں کی ہلاکت اور ہمارے فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔‘
خط میں کہا گیا کہ ’فی الحال، یہ جنگ سیکیورٹی کے بجائے چند افراد کے سیاسی اور ذاتی مفادات کو مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کی جارہی ہے‘۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایسے بیانات جو جنگ کے دوران ہماری فوج کو کمزور کرتے ہیں اور ہمارے دشمنوں کو مضبوط کرتے ہیں، ناقابلِ معافی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک انتہاپسند اور غیر اہم گروہ ہے جو ایک بار پھر اسرائیلی معاشرے کو اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘ نیتن یاہو نے اُن پر حکومت کو گرانے کی کوشش کا الزام لگایا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ خط میں فوجی خدمات سے انکار کی بات نہیں کی گئی، بلکہ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے یرغمالیوں کی رہائی کو ترجیح دے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں میں متعدد ریزرو اہلکار شامل ہیں، جن میں سینئر افسران اور پائلٹس بھی شامل ہیں، جب کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو اب ڈیوٹی پر نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جب یہ دستاویز لیک ہوئی تو فوجی حکام نے ان دستخط کرنے والے اہلکاروں سے رابطہ کیا اور اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار کے حکم پر اُن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے دستخط واپس لیں۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے موجودہ کمانڈر میجر جنرل تومر بار نے دھمکی دی کہ جو پائلٹس اس خط پر دستخط کریں گے، انہیں مستقبل میں سروس دینے سے روک دیا جائے گا۔
ہارٹز کے مطابق اب تک صرف 25 افراد نے اپنے دستخط واپس لیے ہیں، جبکہ 8 مزید افراد نے بطورِ احتجاج خط پر دستخط کر دیے۔
اخبار کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر اور فضائیہ کے کمانڈر تومر بار نے فیصلہ کیا ہے کہ اُس خط پر دستخط کرنے والے اہلکاروں کو برطرف کر دیا جائے گا۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ برطرفیاں کب سے نافذ العمل ہوں گی۔
دوسری جانب نیتن یاہو پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنی حکومت کو بچانے اور وزیرِاعظم کے طور پر برقرار رہنے کے لیے جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔






