
میانمار میں شدید زلزلے کے بعد ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر 7.7 شدت کے اس زلزلے کے جھٹکے میانمار سمیت تھائی لینڈ اور چین میں بھی محسوس کیے گئے۔
میانمار کی فوجی حکومت کے رہنماؤں کے مطابق 1,700 سے زائد افراد ہلاک اور 3,400 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ تھائی لینڈ میں کم از کم 18 افراد جان سے گئے۔
زلزلہ کہاں آیا؟
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز میانمار کا شہر سگائنگ تھا۔
یہ علاقہ میانمار کے دوسرے بڑے شہر مانڈالے کے قریب ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے۔
پہلا زلزلہ 12 بجکر 50 منٹ پر آیا، جبکہ دوسرا زلزلہ 12 منٹ بعد آیا، جس کی شدت 6.4 تھی اور اس کا مرکز سگائنگ کے جنوب میں 18 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
تب سے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو مانڈالے کے شمال مغرب میں 5.1 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جسے ایک مقامی رہائشی نے 28 مارچ کے بعد سب سے شدید جھٹکا قرار دیا۔
زلزلے سے تباہی
شدید زلزلے سے میانمار کی سڑکیں تباہ، پلوں کو نقصان پہنچا اور کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ یہ ملک تقریباً 5.5 کروڑ آبادی پر مشتمل ہے اور اسے دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حکمران فوجی حکومت کے مطابق مانڈالے کے علاقے میں 1,591 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور ریسکیو ورکرز انہیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شدید جھٹکے دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جن میں تھائی لینڈ اور چین شامل ہیں۔
تھائی دارالحکومت بینکاک زلزلے کے مرکز سے 1,000 کلومیٹر (621 میل) سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شہر کی ایک اونچی عمارت گر گئی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں بینکاک میں عمارتوں کے جھولنے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ چھت پر موجود سوئمنگ پولز کے پانی کو کناروں سے باہر بہتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
زلزلہ کتنا خطرناک تھا؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے میں 1,700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اموات مانڈالے میں ہوئیں۔
اس کے علاوہ 3,400 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 افراد لاپتہ ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے تخمینے کے مطابق، میانمار میں ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ معاشی نقصانات سالانہ اقتصادی پیداوار سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب بینکاک میں 18 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 11 افراد وہ ہیں جو گرنے والی اونچی عمارت میں موجود تھے۔ اب بھی 78 افراد لاپتہ ہیں۔






