
پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خورویو نے منگل کے روز ان رپورٹس کو مسترد کر دیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سابق وزیراعظم عمران خان فروری 2022 میں روس کے دورے پر تھے، جب ماسکو نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ یہ جنگ 2014 میں کریمیا پر روسی قبضے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
جنگ کے دوران برطانوی، امریکی اور بھارتی میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ پاکستان نے یوکرین کو کروڑوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔
تاہم روسی سفیر نے ان خبروں کو غیر مصدقہ قرار دیا۔ انہوں نے عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’ہم نے ایسی رپورٹس سنی ہیں، لیکن اب تک ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لہٰذا جب تک کوئی ثبوت نہیں ملتا، میں اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کروں گا۔‘
روسی سفیر نے روس-یوکرین جنگ میں پاکستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی کی تعریف کی، ان کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے پاکستان پر دباؤ تھا۔
انہوں نے کہا ’ہم پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یوکرین کے تنازع پر ایک غیر جانبدارانہ مؤقف اپنایا، حالانکہ مغربی ممالک، سابق امریکی انتظامیہ اور یورپی رہنماؤں نے دباؤ ڈالا۔‘
واضح رہے کہ روس-یوکرین جنگ میں اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فی الحال امریکہ، روس اور یوکرین سعودی عرب میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، تاکہ اس تنازع کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔






