
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے پرفیوم برانڈ کے لانچ کے وقت ’مذہبی جذبات کو مجروح‘ کیے اور مبینہ طور پر پاکستان کے توہین مذہب کے قانون کا مذاق اڑایا گیا تھا۔
رجب بٹ پاکستان کے مشہور یوٹیوبر ہیں، وہ ماضی میں بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں، جن میں ایک موقع پر انہیں لائسنس کے بغیر شیر کا بچہ اور اسلحہ رکھنے پر گرفتار کیا تھا، پر انہیں پچاس ہزار روپے جرمانے کے بعد ایک سال تک کمیونٹی سروس (سماجی بہتری کے لیے کام) کی سزا سنائی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حال ہی میں انہوں نے اپنی ایک ویڈیو میں ’295‘ نامی پرفیوم لانچ کیا، جس کا حوالہ تعزیراتِ پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون سے ہے۔ یہ ویڈیو اب ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔
رجب بٹ نے دعویٰ کیا کہ پرفیوم کا نام رکھنے کا مقصد اس کیس کا حوالہ دینا تھا جو ان کے خلاف گزشتہ سال درج کیا گیا تھا، جب ان کی ایک ویڈیو کو توہین مذہب سمجھا گیا تھا۔
بعدازاں ان کے پرفیوم کے اشتہار پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے رہنما حیدر علی شاہ گیلانی نے پیر کی رات ان کے خلاف شکایت درج کرائی۔
حیدر علی شاہ گیلانی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، قانون میں بے شمار دفعات ہیں، مگر انہوں نے توہینِ مذہب سے متعلق دفعات کو ہی کیوں منتخب کیا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جرم کا اعتراف کر رہے ہیں، جو دراصل ایسے اقدامات کو معمول پر لانے کی کوشش ہے۔‘
پولیس چالان کے مطابق رجب بٹ پر توہینِ مذہب اور سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں۔
پاکستان میں توہینِ مذہب ایک حساس معاملہ ہے، جہاں محض الزام لگنے پر مخصوص گروپ کے لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بعض اوقات ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں تک کی نوبت آ جاتی ہے۔
اگر دونوں مقدمات میں رجب بٹ پر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
پرفیوم کا نام 295 رکھنے پر تنازع کیوں ہوا؟
- پاکستانی قانون میں دفعہ 295 تعزیراتِ پاکستان کا حصہ ہے، جو مذہب کی توہین سے متعلق ہے۔ یہ دفعہ کئی شقوں پر مشتمل ہے جس میں 295-اے: مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے خلاف ہے، 295-بی: قرآن کی بے حرمتی سے متعلق ہے اور 295-سی: نبی کریم کی توہین سے متعلق ہے، جس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔
- جس کی وجہ سے مذہبی گروہوں کی جانب سے ردعمل آیا۔
- رجب بٹ کا کہنا ہے کہ یہ نام سدھو موسے والا کے گانے ’295‘ سے متاثر ہو کر رکھا گیا، نہ کہ قانون سے۔
- ناقدین کا الزام ہے کہ رجب بٹ نے مذہبی عقائد کی توہین کی ہے۔
اتوار کو جاری کردہ ایک ویڈیو میں رجب بٹ نے اعلان کیا کہ وہ ملک کے توہین مذہب قوانین کے مخالف نہیں ہیں۔
انہوں نے قرآن مجید تھامے کہا کہ ’میں اپنے الفاظ پر معافی مانگتا ہوں جو میں نے پرفیوم کے لانچ کے وقت کہے تھے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں معذرت خواہ ہوں اور اس پرفیوم کی فروخت ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘
سدھو موسے والا اور 295
اس سے قبل رجب بٹ نے بھارتی ریپر سدھو موسے والا کے ساتھ اپنی مماثلت کا اظہار کیا تھا، جنہوں نے ’295‘ نامی گانا ریلیز کیا تھا، جس پر ماضی میں انڈیا کے قدامت پسند حلقوں کی جانب سے خاصی تنقید بھی کی گئی تھی۔
رجب بٹ کے وکیل عرفان نقوی نے اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں ایف آئی درج ہونے سے قبل ایک ایف آئی آر کراچی میں بھی 295 اے کی دفعات کے تحت درج ہوئی تھی۔
ان کے مطابق رجب بٹ کو نہیں علم تھا کہ 295 کیا ہے تو انہوں نے کہہ دیا کہ ان پر بھی 295 لگی اور ان کے استاد سدھو موسے والا پر بھی لگی۔ رجب بٹ انڈیا کے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے فالوور ہیں۔






