
پاکستانی صحافی وحید مراد کو بدھ کی صبح اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔
صحافی وحید مراد کے اہل خانہ نے ان کے مبینہ اغوا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔ مختلف صحافیوں اور تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
وحید مراد کی اہلیہ اور صحافی شینزہ نواز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’میرے شوہر وحید مراد کو رات گئے 2 بجے نقاب پوش افراد اٹھا کر لے گئے۔ وہ بار بار پوچھتے رہے، بیوی کہاں ہے؟'
انہوں نے مزید لکھا کہ ’میری والدہ بھی گھر پر موجود تھیں۔ ان سے بھی بدتمیزی کی گئی، انہیں دھکا دیا گیا۔ میری والدہ دل کی مریضہ ہیں۔ وہ میری والدہ کا فون، وحید کے دونوں فون اور کچھ دستاویزات بھی لے گئے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں وحید مراد کی اہلیہ نے یہ بھی بتایا کہ ’جب نقاب پوش افراد نے دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے میرے شوہر کو کہا کہ آپ افغان ہیں، دروازہ کھولیں۔‘ شنزا کے مطابق ان کی والدہ علاج کے سلسلے میں پاکستان آئی ہوئی ہیں اور ان کے گھر پر مقیم ہیں جبکہ وہ اپنے خاندان کے پاس کینیڈا میں ہیں۔
شنزا نواز نے کہا کہ ’نقاب پوش افراد نے کہا کہ آپ دروازہ کھولیں، ورنہ دروازہ توڑ کر اندر آ جائیں گے۔ جس پر وحید نے کہا کہ وہ افغان نہیں ہیں۔ میں نے انہیں (وحید کو) باہر جانے نہیں دیا۔ وحید نے دروازے کے نیچے سے ہی شناختی کارڈ سرکا دیا تاکہ انہیں بتائیں کہ وہ افغان نہیں ہیں۔‘
شنزا کی والدہ نے بتایا کہ ’ان افراد نے دروازہ توڑا اور کالے کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد وحید کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ یہ افراد ایک پولیس کی گاڑی اور دو ویگو ڈالوں میں آئے تھے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر
صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وحید مراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور انہیں غیر قانونی طور پر اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
وحید مراد کی ساس، عابدہ نواز، نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، آئی جی اور ایس ایچ او کراچی کمپنی کو فریق بنایا ہے۔
کراچی کمپنی تھانے میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ رات 2 بجے کالی وردی میں ملبوس افراد جی-8 میں ہمارے گھر آئے، جن کے ساتھ دو پولیس کی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ یہ افراد وحید مراد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے اور میرے ساتھ بدتمیزی بھی کی۔
وحید مراد ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم اردو نیوز سے وابستہ ہیں۔ پاکستان میں صحافیوں کو نامعلوم یا سادہ لباس میں ملبوس افراد کے ہاتھوں اٹھائے جانے یا اغوا کیے جانے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ انہیں اختلاف رائے دبانے اور آزاد صحافت کو خاموش کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
چند روز قبل جلاوطن پاکستانی صحافی احمد نورانی کے بھائیوں کو بھی زبردستی اٹھا لیا گیا تھا۔
18 مارچ کو آدھی رات کے وقت، تقریباً دو درجن افراد جو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر رہے تھے، زبردستی نورانی کے اہل خانہ کے گھر داخل ہوئے، ان کے دو بھائیوں پر تشدد کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اسی طرح 20 مارچ کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی میں رفتار نیوز کے سی ای او اور صحافی فرحان ملک کو گرفتار کر لیا۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس سمیت بین الاقوامی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں صحافتی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
صحافیوں کے خلاف ایسے اقدامات ان پر دباوٴ اور ہراسانی سے متعلق ریاست اور سیکیورٹی اداروں پر سوال اٹھتے ہیں خاص طور پر جب کوئی صحافی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہیں۔






