
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ سمیت 6 لوگوں کو گرفتار کرکے مظاہرین کو منتشر کردیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر بلوچ رہنماؤں کی گرفتاریوں اور کوئٹہ میں ان کے دھرنے پر کریک ڈاؤن کے خلاف آج تنظیم نے کراچی پریس کلب پر احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔

آج کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت شہر میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین کراچی پریس کلب پہنچنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں فوارہ چوک پر روک لیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنا شروع کر دیا اور سمی دین بلوچ سمیت دیگر بلوچ یکہتی کمیٹی کے حامیوں کو حراست میں لے لیا۔
تنظیم کی رہنما صدف عامر نے ڈان داٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری آ گئی اور ہم پر تشدد کیا۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم پرامن احتجاج کر رہے تھے، لیکن ریاست کو ہمارا پرامن احتجاج منظور نہیں۔ اسی لیے ریاست نے ہمارے ساتھ تشدد کیا اور سمی بلوچ سمیت دیگر کو گرفتار کر لیا۔‘
کراچی پولیس نے پہلے ہی کراچی پریس کلب جانے والے تمام راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا تھا۔

بلوچ یکجہٹی کمیٹی کے خلاف مظاہرہ
دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر ایک مظاہرہ بھی کیا گیا، جہاں شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچ یکجہتی تنظیم اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے جوڑنے کے الزامات درج تھے۔ اس کے علاوہ زینب مارکیٹ کے قریب فوارہ چوک پر مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھی ایک مظاہرہ ہوا۔ ویڈیوز میں مظاہرین کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت اور بی ایل اے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔
دفعہ 144 کے تحت اجتماعات پر پابندی
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔حکومتی ترجمان سعدیہ جاوید نے ایک بیان میں کہا کہ ’شہر میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے تھریٹ الرٹ تھا، اسی لیے کمشنر نے دفعہ 144 نافذ کی تھی، جس کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں کی گئیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کل پیپلز پارٹی کے پانی کے مسئلے پر احتجاج پر بھی یہی پابندی ہوگی، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’یہ پابندی ہر جماعت پر ہوگی۔






