
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چار مزدوروں کو قتل کر دیا، جبکہ ضلع نوشکی میں چار پولیس اہلکاروں کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
مقامی اخبار ڈان کے مطابق قلات کے ڈپٹی کمشنر (ر) کیپٹن جمیل بلوچ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ’نامعلوم حملہ آوروں نے ہفتے کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر منگچر شہر کے ملنگزئی علاقے میں فائرنگ کر کے چار مزدوروں کو ہلاک کر دیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک مزدور زندہ بچ گیا، پانچوں افراد بورویل کھودنے کا کام کر رہے تھے اور ان کا تعلق صادق آباد سے تھا۔ مزید تفتیش جاری ہے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
دوسری جانب ضلع نوشکی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ہاشم خان کے مطابق مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوا تھے، انہوں نے غریب آباد علاقے میں ایک پولیس موبائل پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال خاص طور پر گزشتہ ہفتے بولان ضلع میں جعفر ایکسپریس ٹرین کے دہشتگردی کے واقعے کے بعد کشیدہ ہے۔
گزشتہ ماہ نامعلوم مسلح افراد نے ضلع بارکھان میں ایک مسافر بس سے مسافروں کو اتار کر سات افراد کو قتل کر دیا تھا، جو پنجاب جا رہے تھے۔
بلوچستان میں خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ اپریل 2024 میں نوشکی کے قریب ایک بس سے اتار کر نو افراد کو قتل کر دیا گیا، جبکہ کیچھ میں دو مزدوروں کو گولی مار دی گئی۔
گزشتہ سال مئی میں گوادر کے قریب پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات حجاموں کو قتل کیا گیا، جبکہ اگست میں ضلع موسیٰ خیل میں ٹرکوں اور بسوں سے اتار کر 23 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ ستمبر میں پنجگور کے خدائے آبادان علاقے میں ایک زیر تعمیر مکان پر حملہ کر کے سات مزدوروں کو قتل کیا گیا، جن کا تعلق ملتان سے تھا۔
اکتوبر 2023 میں ضلع کیچھ کے علاقے تربت میں نامعلوم مسلح افراد نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چھ مزدوروں کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولین کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
2019 میں مسلح افراد نے گوادر کے قریب اورمارہ میں ایک بس کو روکا اور مسافروں کے قومی شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 14 افراد کو قتل کر دیا، جن میں نیوی، ایئر فورس، اور کوسٹ گارڈز کے اہلکار شامل تھے۔
اسی طرح 2015 میں تربت کے قریب ایک مزدور کیمپ پر حملہ کر کے 20 مزدوروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا گیا۔ ان مقتولین کا تعلق سندھ اور پنجاب سے تھا۔






