ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ پولیس نے گرفتار کرلیا، بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ

11:0522/03/2025, ہفتہ
جنرل22/03/2025, ہفتہ
ویب ڈیسک
ماہ رنگ بلوچ نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک پرامن ریلی پر فائرنگ کرکے تین مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔
تصویر : فیس بک / فائل
ماہ رنگ بلوچ نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک پرامن ریلی پر فائرنگ کرکے تین مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔

بلوچ عوام کے حقوق، جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے ماہ رنگ بلوچ کو دیگر بلوچ کارکنوں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

یہ دعویٰ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے فیس بک پیج کی ایک پوسٹ میں کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’کوئٹہ پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو دیگر کارکنوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس نے شہید نوجوانوں کی لاشوں کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور خواتین و بچوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔‘

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ رات دیر گئے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین نے لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا۔

یہ دھرنا بلوچ یکہجہتی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور مرنے والے افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنے اور شناخت کے لیے نہ لے جانے کے خلاف دیا جا رہا تھا۔

اس سے پہلے پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں پولیس اہلکار سمیت نو لوگ زخمی ہوگئے تھے۔

ماہ رنگ بلوچ نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک پرامن ریلی پر فائرنگ کرکے تین مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے آج کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ایک پرامن دھرنے کی کال دی تھی، لیکن پولیس نے ہمارے مظاہرین پر حملہ کر دیا، اب ہم سریاب روڈ پر تین مقتول کارکنوں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دیے ہوئے ہیں اور جب تک ہمیں انصاف نہیں ملے گا، ہم احتجاج ختم نہیں کریں گے۔‘

دوسری جانب کوئٹہ کے کمشنر آفس نے حکام کی جانب سے فائرنگ کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔

ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران انتظامیہ کی جانب سے کوئی شیلنگ نہیں کی گئی۔ کسی قسم کے ربڑ کی گولیاں استعمال نہیں کی گئیں، ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے صرف واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ انتظامیہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہے، تاہم، قانون شکنی اور ریاستی اداروں پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔




#بلوچستان
#بلوج یکجہتی کمیٹی
#ماہ رنگ بلوچ
#پاکستان